کیا وقف بورڈ سے واقف ہیں آپ ؟

  عجب نہیں کہ پریشاں ہے گفتگومیری

موجودہ حالات کو مدِّنظر رکھتے ہوۓ بہت ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہیکہ دن بدن مسلمان قوم پستی کی طرف جارہی ہے۔ وہ مسلمان قوم جو ہر طبقہ میں سب سے بہترمانی جاتی تھی جس نے ہر دور میں اپنی ترقّی کے لیے سوچا اسکی ایک مثال وقف ہے۔

  وقف کیا ہے؟

وقف وہ جائیداد ہے جو مذہبی اور رفاعی مقاصد کے لئے خدا کے نام پر دی گئی ہے۔ قانونی شرائط میں ، کسی شخص کی طرف سے کسی بھی منقولہ یا غیر منقولہ جائداد سے متعلق   ، کسی وقف کو کسی فعل یا آلہ کے ذریعہ تشکیل دیا جاسکتا ہے ، یا کسی پراپرٹی کو وقف سمجھا جاسکتا ہے اگر وہ طویل عرصے سے مذہبی یا رفاعی مقاصد کے لئے استعمال ہوتا رہا ہو۔ ہسپتالوں اس آمدنی کا استعمال عام طور پر تعلیمی اداروں ، قبرستانوں ، مساجد اور پناہ گاہوں کی مالی اعانت وغیرہ کے لئے ہوتا ہے۔

  وقف ایکٹ کی بنیاد

ملک بھر میں 4.9 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ وقف موجود ہیں ۔لیکن ان پراپرٹیز سے موجودہ سالانہ آمدنی صرف ١٦٣ روپئے  کروڑ ہے۔  (سچر رپورٹ  )

صرف مہاراشٹر میں وقف املاک کے بطور 92000 ایکڑ اراضی ہے جس کی مالیت کچھ ہزار کروڑ ہے۔ اگر ترقی کی گئی تو ، یہ خصوصیات چند سو کروڑ کی سالانہ واپسی حاصل کرسکتی ہیں۔ اس سے معاشی طور پرغریب افراد کی زندگیوں میں سمندر کی سی تبدیلی آسکتی ہے۔(وقف بورڈمہاراشٹرہ)

ان زمینوں کا استعمال کس طرح کیا جاے ؟اسلیے اس ایکٹ کی تشکیل١٩٥٤ میں پڑی۔
اتنی وسیع  جإیداد ہم مسلمانوں کی ترقی اور
بہترنگہداشت کے لیے ہمارے بڑے چھوڑ گٕے ہیں کیا ہمیں معلوم ہےیا  یہ ہم نے معلوم کرنے کی کوشش کی ؟
اسکا استعمال کسطرز سے ہو رہا ہے۔ہمیں اس سے کتنا فاٸدہ ہوا؟  اور کتنا فاٸدہ ہو سکتا ہے؟

                                                              ہماری ذمّہ داری؟

سچر رپورٹ میں ہندوستان کے مسلمانوں کی سماجی ،اقتصادی اور تعلیمی حالت کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ اگرہم سچر رپورٹ کوپڑھیں تو اسکےذریعے مسلمان دلت اور دوسرے نچلےطبقےسے بھی زیادہ پچھڑاطبقہ ہے۔

کیا ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ ہر بڑے شعبوں اور اداروں میں مسلمانوں کی تعداد بہت قلیل ہے؟کیا ہم صرف اپنی شریعت کو لیکر ہی فکرمند ہیں ؟کیا ہمیں اپنی آنے والی اور ابھی کی   نسلوں کی فکر نہیں کے وہ بہتریں زندگی گزاریں ۔اچھا کھاٸیں ،اچھا کماٸیں ،اچھی پوسٹ پر ہوں ،نیک اور لاٸق انسان ہوں ان میں شعور ہو۔ہم اب نہیں سوچینگے تو کب سوچینگے؟اور صرف سوچنا ہی نہیں

بلکہ اسکے لیے جدّوجھد کریں۔

 ان وقف کی زمینوں پر اچھی اسکول اور اچھے ہسپتال تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔ دن بدن بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے اس کے لیے اچھی کمپنی یا کارخانے وغیرہ بنا کر روزگار کے ذراٸع فراہم کیے جاسکتے ہیں ۔ بہت سی   بیوہ اور طلاق یافتہ یا بے سہارہ خواتین ہیں۔ جو آج بھی بھوکی سوتی ہیں ہمیں ان کے بارے بھی کچھ نہ کچھ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ آپ اپنی قیمتی راۓ مندرجہ بالہ ای میل آٸ ڈی پر دے سکتے ہیں۔ 

uroojassignments@gmail.com

parchamcollective@gmail.com

آٸیے ہم وقف زمینوں کا استعمال کہاں ہوا ہے؟اس سے ہماری قوم کو کتنے فاٸدے ہوٸے ہیں؟اور ہم اپنے معاشرے کی ترقّی کے لیے انکااستعمال کس طرح کریں؟ ملکر سوچتے ہیں۔ اور اس کا سجھاٶ گورنمنٹ کو دیتے ہیں ۔ 

               عقابی روح جب بیدارہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
(علّامہ اقبال)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s